شکوہ
شکوہ کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رھوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے ،خاکمِ بدہن ہے مجھ کو ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم ساز خاموش میں ،فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے تھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیم ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟ ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر کہیں مسجود تھے پتّھر،کہیں معبود شجر خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی اِسی معمورے میں آباد ت...