عید قید...


پہلے پہل عید سادے لباس میں آتی تھی اب پتلون میں ..پہلے عید رمضان کے روضے رکھنے کی خوشی ہوتی تھی اب صرف انجوائےمنٹ ... پہلے ایک ہفتے پہلے دیہاتوں میں کوئلہ شیک کرکےپانی اور تھوڑی مقدار چینی ملاکر دوات بناکر لکڑی کو چاقو سے چھیل کر قلم بناکر اپنوں کو عید کارڈ بھیج دیتے تھے..... اب تو چھ مہینے پہلے ایڈوانس عید مبارک کی رٹ موبائل فون کا طوطا لگا رہا ہوتا ہے پہلے رشتے داروں سے ایک روپے یا پچاس پیسے کا سکہ عیدی ملتی اور عید گاہ سے کاکا محمد علی جمالی کے دوکان سے پلاسٹک والی بندوق مرغی و تیتر کی آواز نکالنے والی بین اور تتلی والے غبارے اور ایک درجن پٹاخے لینے کیلئے جنید،رفیق، عدیل کیساتھ دوڑلگاتے کہ پہلے میں چیز خریدوں دوڑتے وقت ان سکوں سے چھن چھنا چھنک کی آواز ہو بہو جیسے بارش کی خوشی میں تھر کی ریگستان میں دوڑتی مسکاتی دوشیزہ کے پاوں کے پارائل..... پہلے عید نماز ہوتی تھی اب صرف سوشل میڈیا کیلئے گرافر بیک گراونڈ اسٹیٹس..... ھاں ؛پہلے تو 3یا چار روپے نماز سے پہلے کسی یتیم یا بیوہ کو فطرانہ ملتی مگر اب تو 1000والی سبز یا 5000والی بھوری چمچماتی نوٹ کوڑھ فقر مولویوں کے جیب میں نازل ہوتے دکھائی دیتے ہیں ... پہلے "شان سنی" تھیلی میں پڑوسیوں کے ساتھ محبت کی سویاں بانٹی جاتی تھیں اور ماسی "رقیہ" امی جان کیلئے 5 روپے بطور عیدی بھیجتی اور امی جان بھی فقط نوٹ تبدیل کرکے اتنی ہی رقم عیدی بھیجتی .... پہلے دیہاتوں میں دیسی آٹے کو گوندھ کر مائی "بشری١ "کے گھر سے ہاتھ سے چلنے والی مشین کو لاکر سویاں بنا کر جھونپڑوں کے چھتوں پر خشک کرکے دور دراز کے عزیزواقارب میں انتہائی انسیت سے بھیجا کرتے اور دور سے آئے مہمان کیلئے اس سے بڑھ کر شان نہ ہوتی اب تو ماڈرن بریانی چائینیز کھانے نجانے کیا کیا؟؟؟؟؟؟؟ پہلے 3 سال سے لیکر 12 سال کے تمام بچے جن میں میں، دلبر ،شفیع محمد، وغیرہ وغیرہ عصر کے نماز سے ہی مغرب کی طرف نیلی نیلی آسمان کو تکتے نہیں تھکتے . مگر اب دیکھو زاھد، ایاز ،منصور، شاھد، نسیم، تک ٹیلی وژن کے "سکرین" یا سمارٹ فون میں "مفتی منیب الرحمان" کے فتوے کے انتظار میں ہوتے ہیں ..... صدیوں سے زمین چاند اور سورج کے گردشوں یعنی مکافات عمل میں یہ سلسلہ یا یوں کہیے مقدمہ رجسٹر ہوچکا ہے کہ عرب امارات میں ایک دن پہلے چاند دکھتا ہے ہمارے ہاں یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان و دیگر پٹی میں ایک روز بعد مگر اب تو ایک ہی ریاست میں سات سات عیدیں ........ پہلے پڑوس عزیزواقارب سے لیکر قلب قریب دوستوں عید ملنے اور گستاخیوں کی معافی مانگنے جایا کرتے مگر اب تو آئی.ایم.او میسینجر واٹس ایپ پر پوری فیملی کو رسمی بول بول دینے کے سواء کوئی عید نہیں .... پہلے ہفتوں تک عید کے چرچے ہوتے مگر اب صرف ایڈوانس سے فیسبک تک ...پہلے ہم بچے پچھلے صف میں کھڑے ہوتے تاکہ بزرگان صف اول میں کھڑے ہوجائیں مگر اب تو ہر ماڈرن باپ کا ماڈرن بیٹا اسکے گود میں ہیاں تک کہ امام صاحب بھی اپنے 9 نواسوں کے ساتھ ممبر میں ٹیبل ٹینس و کبڈی کھیلتا نظر آتا ہے .. نجانے کیوں سہولتوں کیساتھ محبت الفت ختم... پہلے غریبوں ناداروں فقیروں کو گلے لگاکر ہی عید ہوتی مگر اب کسی بااثر شخص کے ساتھ ہی کل عید ہوتی ہے . پہلے پورے سال میں دوجوڑے کپڑے نصیب ہوتے وہ بھی عید کے مواقع پر .مگراب تو ایفیشنسی' بنگلے بیلینس باشوفر "لگژری" مگر وہ غربت والی لذت کہاں.،؟؟؟؟؟ مملکت پاک وطن میں آج بھی عید غریب کیلئے ساعت ''پھانسی'' ہے اور اہل زر کی عید ''عیاشی'' ........ایسے میں کون منائے عید کیسے کہیں عید مبارک ... پہلے بھلے ہی کیوں نہ سارا سال خوشیاں قید ہوتیں مگر یوم عید غریب کے روزن سے مسکان جھانکتی رحمتیں پھول پھانکتی اور آنگن میں چاند کی رقص بچھڑے حسینہ کی دید سی عید ہوتی اب تو خوشیاں قید عید ہیں .... خواھشات ،قہقے،مذاق،ملن،سچائی،قربت،عبادت،سب عید کے خوشیوں کے قیدی ہیں ایسے میں کون کہے عید مبارک بس رسمی بول مجبور کرکے زمانے کے سامنے'' عید قید" مبارک دینے پر مجبور کردیتے ہیں میری طرف سے عالم انسانیت کو "عید قید"مبارک تحریر:-اعجازشاھین زھری ..

Comments

Popular posts from this blog

جواب شکوہ

شکوہ